‘ٹک’ کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

تکنیکی ماہر نے کارپٹنگ کے بعد 'ٹک' لگانے کی اہمیت سے پردہ اٹھا دیا

سڑکوں کو کارپٹنگ کے بعد دوبارہ کھردرا کرنا یا “ٹک” لگانا ایک عام اور معمول کا عمل ہے۔ اس حوالے سے بعض غلط فہمیوں کو کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) نے واضح کیا کہ وہ سڑکیں جو بھاری ٹریفک برداشت کرتی ہیں، انہیں کئی پرتوں میں بنایا جاتا ہے تاکہ بھاری بوجھ برداشت کر سکیں اور سڑک کے ڈھانچے کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ سی بی سی کے ایک تکنیکی ماہر نے بتایا کہ خیابانِ اتحاد روڈ کو پہلی پرت کے بعد دوبارہ کھردرا کیوں کیا گیا یا “ٹک” کیوں لگائے گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بھاری ٹریفک والی سڑکوں پر عموماً دو پرتیں ڈالی جاتی ہیں: پہلی اسفالٹ بیس کورس اور دوسری اسفالٹ ویئرنگ کورس۔ چونکہ خیابانِ اتحاد پر ڈمپر ٹرک اور واٹر ٹینکرجیسی بھاری گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے، اس لیے یہ تکنیک استعمال کی گئی تاکہ سڑک مناسب ایکسل لوڈ برداشت کر سکے۔ اس تکنیک میں پہلی پرت کے بعد سڑک عارضی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دی جاتی ہے، اور بعد ازاں سطح کو دوبارہ کھردرا کیا جاتا ہے اور دوسری پرت لگائی جاتی ہے تاکہ پرتوں کے درمیان بہتر گرفت یقینی بنائی جا سکے۔
اپنا تبصرہ لکھیں