سڑکوں کو چار چاند لگ گئے

اہم شاہراہوں کی تعمیرِ نو ، تزئین و آرائش نے ڈیفنس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے

“آئسنگ آن دی کیک” انگریزی محاورہ جسے ہم اردو میں عموماً “سونے پر سہاگہ” یا “چار چاند لگا دینا” سے تعبیر کرتے ہیں اس کی عملی مثال ڈیفنس کی زیرِ تعمیر سڑکوں پر دیکھی جا سکتی ہے، جو مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد اب تزئین و آرائش کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
لین مارکنگ، کیٹ آئیز کی تنصیب، فٹ پاتھوں کی تعمیر اور سڑکوں کے درمیان گرین بیلٹس میں پھولوں اور پودوں کی شجرکاری نے علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف شہری حسن میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ ٹریفک کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) نے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عمر فاروق علی ملک کی ہدایت اور سرپرستی میں کچھ عرصہ قبل پہلے مرحلے میں پانچ اہم شاہراہوں — خیابانِ بحریہ، خیابانِ شجاعت، 26 اسٹریٹ، خیابانِ اتحاد اور کمرشل ایونیو — کی تعمیرِ نو کا آغاز کیا تھا۔ یہ منصوبہ کارپیٹنگ اور دیگر تعمیراتی مراحل سے گزرتے ہوئے اب تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
ٹوٹی پھوٹی اور خستہ حال سڑکیں اب ہموار اور کشادہ شاہراہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، جن پر سفر نہایت سہل اور خوشگوار ہو گیا ہے۔ اس وقت ان سڑکوں پر لین مارکنگ، کیٹ آئیز کی تنصیب اور گرین بیلٹس کی تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری ہے۔
امید ہے کہ ان شاہراہوں کی تعمیرِ نو سے ٹریفک کی روانی میں مزید بہتری آئے گی اور گاڑی چلانے والوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کو بھی نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔ سی بی سی کے اس اقدام کو ڈیفنس اور کلفٹن کے مکینوں کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں