کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور بارش کے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس عزم کا اظہار سی ای او سی بی سی محمد عمر فاروق علی ملک نے سی بی سی کی جانب سے بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی مشقوں (موک ایکسرسائزز) کے آغاز کے موقع پر کیا۔
میڈیا نمائندگان کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عملی مشقوں کا مقصد پانی کی نکاسی کے نظام اور مشینری کو جانچنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1300 سے زائد تربیت یافتہ عملہ، 250 سے زائد ڈی واٹر نگ پمپس اور دیگر مشینری و گاڑیوں کے ساتھ بارشوں سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں کلفٹن کنٹونمنٹ کو 8 زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رین مینجمنٹ سال کی سب سے اہم سرگرمی ہوتی ہے جس کے لیے رواں سال مون سون سے قبل ہی تمام تیاریاں مکمل کرکے عملی مشقوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میڈیا نمائندگان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے پری مون سون موک ایکسرسائزز کا یہ سلسلہ شروع کیا تھا جس کے بہترین نتائج حاصل ہوئے۔ سال 2020 کے بعد تاریخ میں پہلی بار گزشتہ سال بارشوں کے دوران ڈی ایچ اے کا علاقہ محض چند گھنٹوں میں مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا تھا، جبکہ باقی شہر میں پانی کھڑا رہا۔
انہوں نے مزید خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری آئی ہے، سڑکیں نئی تعمیر ہو چکی ہیں اور برساتی نالوں کا ترقیاتی کام بھی مکمل ہو چکا ہے، جو اب مکمل طور پر فعال ہیں۔
سی ای او محمد عمر فاروق علی ملک نے امید ظاہر کی کہ اس بار مضبوط انفراسٹرکچر کی بدولت مون سون کے دوران “ریئل ٹائم” میں پانی کی نکاسی کو ممکن بنایا جائے گا تاکہ رہائشیوں کو کسی بھی قسم کی زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔